36 views 2 secs 0 comments

صدر بنا تومسلمانوں پر سفری پابندیاں عائد کردوں گا’ ڈونلڈ ٹرمپ

In Urdu Newspaper
October 29, 2023

2017 میں اپنے عہد صدارت کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور ابتدائی طور پر عراق اور سوڈان کے مسافروں کے داخلے پر بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کر دی تھیں
امریکی سرزمین پر یہود مخالف حملوں کا خدشہ ہے’ اسٹوڈنٹ ویزا پر آیا کوئی بھی طالب علم اگر نسل کشی کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے ملک بدر کر دینا چاہیے’ اقوام متحدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق سفیر نکی ہیلی
اسرائیل کا ایسا دفاع کروں گا جیسا اس سے قبل کسی نے نہیں کیا’ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع اچھائی اور برائی کے درمیان لڑائی ہے’ نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں منعقدہ تقریب سے خطاب
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر میں دوبارہ صدر منتخب ہوا تو سب سے پہلے مسلمانوں پر سفری پابندیاں عائد کردوں گا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز ریپبلکن یہودی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم بنیاد پرست مسلمان دہشت گردوں کو اپنے ملک سے باہر رکھیں گے۔ ریپبلکن جیوش کولیشن کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرنیوالے افراد سے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ آپ کو سفری پابندیاں یاد ہیں؟ صدر منتخب ہوتے ہی پہلے دن میں اپنی سفری پابندی بحال کردوں گا۔ یاد رہے 2017 میں اپنے عہد صدارت کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور ابتدائی طور پر عراق اور سوڈان کے مسافروں کے داخلے پر بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس حکم کو فوری طور پر متعصبانہ قرار دیتے ہوئے امریکی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت گیر امیگریشن مخالف ایجنڈے سمیت اس طرح پابندیاں ان کے حلقے میں انتہائی مقبول تھیں۔ صدر جو بائیڈن نے 2021 میں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد پہلے ہی ہفتے میں اس پابندی کو واپس لے لیا تھا۔ سابق امریکی صدر ان کئی ریپبلکن اُمیدواروں میں شامل تھے جو حماس کیخلاف جنگ میں اسرائیل کیلئے غیر متزلزل حمایت کا عہد کرنے کیلئے بااثر یہودی عطیہ دہندگان کے اجتماع میں کھڑے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوب مغربی ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اسرائیل کی ریاست میں اپنے دوستوں اور اتحادیوں کا اس طرح سے دفاع کروں گا جیسا اس سے قبل کسی نے نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع تہذیب اور وحشت کے درمیان، شائستگی اور بداخلاقی اور اچھائی اور برائی کے درمیان لڑائی ہے۔ اس اجتماع کے دوران حاضرین کی جانب سے انہیں خوب سراہا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے حریف جو بائیڈن کے بجائے ان کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ لاس ویگاس میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب ترین حریف فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس تھے جنہوں نے 7اکتوبر کو حماس کی اسرائیل کیخلاف کارروائی کو ہولوکاسٹ کے بعد یہودیوں کیخلاف سب سے مہلک حملہ قرار دیا تھا۔ رون ڈی سینٹس اور دیگر نے امریکی کالج کیمپسز میں بڑھتی ہوئی یہودی دشمنی کی نشاندہی کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ یونیورسٹیوں کیلئے فنڈز روکنے اور فلسطین کے حامی غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دئیے جائیں۔ سینیٹر ٹم اسکاٹ نے کہا کہ ہمیں اس کینسر سے لڑنے کیلئے ثقافتی کیموتھراپی کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق سفیر نکی ہیلی نے امریکی سرزمین پر یہود مخالف حملوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹوڈنٹ ویزا پر آیا کوئی بھی طالب علم اگر نسل کشی کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے ملک بدر کر دینا چاہیے۔